Skip to main content

مسلمانوں کے ایک دوسرے پر حقوق کیا ہیں ، بچوں کو. ایک کھیل کے ذریعے سیکھائیں



ایک مسلمان کے دوسرے مسلمان پر حقوق اور بچوں کو  حقوق کیسے سیکھائیں   ؟
How we could teach Rights of a Muslim towards other Muslims?



بچپن میں کی گئی تربیت ساری عمر بچوں کے کام آتی ہے


اور تربیت میں سب سے ضروری اسلامی شرعیت اور ااقتدار ہیں جہاں ہم دنیا وی تعلیم کو بہت زیادہ دلچپ طریقوں اور مختلف قسم کے کھیل کے ذریعے بچوں  کو سیکھاتے ہیں تا کہ بچوں کو سیکھنے میں مدد ملے اور بچوں  کی دلچسپی بھی بنی رہی اسی طرح تمام دینی علوم اور شرعی مسائل سیکھانے کے لیے بھی ہم کچھ ایسے  طریقےاپنانے چاہیں جس سے بچے زیادہ دلچسبی سے دین سیکھیں
اور عمل بھی کر سکیں

الله کا فرمان ہے کہ میں اپنے حقوق جو ایک بندے پر رکھتا ہوں ہو سکتا ہے معاف کر دوں لیکن ایک بندے کے جو دوسرے مسلمان پر حققوق ہیں وو کبھی معاف نہیں کروں گا جب تک وہ خود معاف نہ کرے اس کے ساتھ ہے دیکھاگیا ہی کہ کچھ لوگ بچوں کو یہ معملات سیکھانے میں اتنی سختی کرتے ہیں کہ بچے جونہی ذرابارے ہوتے ہیں وو ان باتوں پر عمل کرنا چھوڑ دیتے ہیں
بچوں کو جتنا زیادہ دلائل دی کر اور آسان طریقےباتیں سمجھی اور سیکھائیجائیں ان کا اثرساری زندگی رہتا ہے
اسی سلسلہ میں بچوں کو ایک مسلمان کے دوسرے مسلمان پر جو حق حاصل ہیں سیکھانے کے لیے ایک کھیل کا سلسلہ پیش ہے

                                               
 آئیں دیکھتےہیں کہ ایک مسلمان کے دوسرےمسلمان پر حقوق کون سے  ہیں


١. جب وہ ایک دوسرے سے ملیں تو سلام کریں
٢. اگر وو کھانے پر بلائے تو  دعوت قبول کریں
٣.کوئی مشوره  کرے تو اسکو اچھا مشورہ دے
٤.اگر وہ چھینکے تو  اسکی چھینک کا جواب دے
٥.اگر وہ بیمار ہو تو اسکی عیادت کرے
٦.جب کوئی مسلمان مرےتو اسکی نماز جنازہ پڑے





 No automatic alt text available.

بچوں کو کیسے سیکھائیں


  ١ .    دو یا دو سے زائد بچے اس کھیل میں حصہ لیں اگر  بچہ ایک ہے ہو تو خود اس کھیل میں حصہ لیں


٢ .         گھر تیار کیا جا یے

                           
    ان کے لیے اس کھیل کےلیے  بلاک یا کچھ کرسیاں وغیر ہ
 یا بھر کوئی
کیمپ     tent
لے کر گھر گھر کهیلنے کا انتظام کریں اور اس طرح سے ایک کھیل کھلیں


.٣ .دعوت کا انتظام

انکو دعوت کے لیے کچھ پسندیدہ کھانے کی ایشیا مہیا کریں اگر بچے خود سے کچھ کھا نا تیار کرسکیں تو ان کی مدد کریں ورنہ کھانا خود بنا لیں ور بچوں سے ٹیبل سجانے میں مدد لیں


٤. میزبان کا تحفہ 

میزبان کو بھی کچھ تحفہ وغیرہ لے کر جانے کے لیے کچھ مناسب سا کھلونا یا کھا'نے کی چہز مہیا کریں اگھر ہو سکے تو بچوں سے خود کوئی کھلونا کارڈ  یا پھولوں کا گلدستہ تیار کروائیں
مثال کے طور پر اس طرح
Image may contain: drink and flowerImage may contain: flower




٥. کھیل
       ایک یا ایک سے زیادہ بچے مہمان بین گے اور ایک گھر میں  میزبان  


میزبان فون پر  دوسرے بچے کو گھر میں کھا نے پر دعوت دے اور دوسرے بچے دعوت قبول کریں
 مکالمہ
اسلام و علیکم  سے شروع کریں 

 دوسرا  بچہ  : وہ علیکم سلام ورحمت الله کہے
پھر بچے کو اپنی مرضی سے گفتگو کرنیں دیں  
جتنا زیادہ ہو سکے بچے خود سارا کھیل کھیلیں کیوں کہ بہت زیادہ مدا خلت سے بچہ ججھک 
محسوس کرتا ہے اور آزادانہ طریقے سے کھیل کا زیادہ مزہ نہیں  لے سکتا ہے



اسی دوران اگر کسی ایک بچے کو چھینکے یا خود کسی بچے کو چھینک مارنے اور  الحمد للہ پڑھننے کو کہیں اور چھینک کا جواب کیسے (   یر حمک الله)   دیتے ہیں یہ سیکھائیں
کھانے کے بعدمہمان کھانے کی تعریف کرے اور یہ دعا پڑھے




Αποτέλεσμα εικόνας για ‫میزبان کے لیے دعا‬‎


پھر بچوں کو اپنی مرضی سے جتنا چا ہے اس کھیل کا مزہ لینے دن
اور اخرمیں بچے ایک دوسرے  الله حافظ کہ کر رخصت ہوں
مہمان کی عیادت کیسے کریں اس کھیل کو دوسرے حصے میں پیش کیا جا ےگا
    بہت شکریہ 
د عا  میں یاد رکھیں 
 کھیل پسند آیے تو لا ئق اور شیر کرضرور کریں تا کہ سب اس سے فائدہ اٹھا سکیں


تحریر ادیبہ انور

Comments

Popular posts from this blog

آج بلال  بہت خوش تھا ، کیوں کہ آج  اسکی وہ ہاتھ سے بنائی ہوئی  کتاب مکمل ہو چکی تھی جس پر اس نے  سڑک سے متعلق  نشانات اوراشارے بنائے تھے  اور ساتھ ان کی استمال کی بھی نشاندھی کی تھی. وہ کافی عرصے سے اس پر کام کر رہا تھا  اور اس نے اس پر محنت بھی بہت کی تھی وہ اسکول سے آ کر اپنا پڑھائیکا کام ختم کرتا اور اس کتاب کی تیاری میں لگ جاتامحتلف اخبار اور روڈ سیفٹی کی کتابوں سے اس نے سارےنشانات اور اشارے سیکھے اور پھر رنگوں کی مدد سے بلکل ویسے ہی نشان اور اشارے بنائے اور اس کے ساتھ ہی اس کو بہت ساری معلومات بھی مل چکی تھی   اس کی امی جی نے اس سسلے میں کافی مدد کی  یہ اس کی سب سے پسندیدہ کتاب تھی  اور وہ خوشی  خوشی سب کو دکھا بھی رہا تھا .  بابا، دادا ابو، بارے بھائی سب نے اسکی بہت تعریف بھی کی تھی. اب وہ چاہتا تھا بس جلدی سے صبح ہو جائے  اور وہ یہ کتاب اسکول لے کے جا سکے تا کہ وہ استاد اور بچوں کو بھی  دیکھا   سکے اس خوشی میں اس کو نیند بھی نہیں آ رہی تھی امی اس کی اس خوشی کو دیکھہ رہیں تھیں ل...

اردو اسلامی کہانیاں فانٹو ایک ہاتھی.... Free Urdu Islami Story for children. Fanto a story to give awarness about water wasting.

لیکن ا جنگل میں اس کا سب سے اچھا دوست پانی تھا. وہاں جنگل میں اس کے گھر کے قریب ایک  تالاب تھا. جو ٹھنڈے میٹھے پانی سےبھرا ہوا تھا وہ اس پانی کے ساتھ بہت سارا کھیلتا. اس کو پانی میں تیرنا , چھلانگیں لگانا بہت اچھا لگتا تھا وہ پانی اپنی سونڈ میں بھرتا اور کبھی اپنے اوپر چھڑکتا اور کبھی اپنے دوستوں پر اس کے دوست بھی اپنی اپنی سونڈ میں پانی بھر کر ایک دوسرے پر پھینکتے رہتے اس طرح وہ بہت سارا پانی ضائع کر دیتے.لیکن انہوں نے کھبی اس بات پر دھیان نا دیا کہ وہ کتنا پانی ضائع کر رہے ھیں کافی عرصہ سے جنگل میں بارش بھی نہیں ہوئی تھی.گرمی بہت شدید تھی.اب تو وہ اور بھی زیادہ وقت پانی میں گزارنے لگے تھے. تالاب کا پانی آہستہ آہستہ کم ہونے لگا. اس کے ماں باپ  کو سمجھاتے کی ان کو اپنے سب سےاچھے دوست کو یوں ضائع نہیں کرنا چاہئے لیکن وہ پانی سے کھیلنے کے بغیر نہیں رہ سکتے تھے. آخر ایک دن ایسا آیا کہ تالاب بالکل سوکھ گیا. اس  کا پانی بالکل ختم ہو گیا سب والدین ہاتھی اس صورت حال سے بہت پریشان تھے. فانٹو بھی اپنے سب سے پیارے دوست کے بغیر خوش نہیں تھا.لیکن اس کو یہ معلوم ...