Skip to main content

MyPet A Lovely ladybug Story for kids میری پیاری لال بیگ بچوں کے لئےایک پیاری سی کہانی



     میری پیاری  لال بیگ

   بچوں کے لئےایک پیاری سی کہانی














آہ بہارکا موسم ہے- ہر طرف  خوب صورت رنگوں اور پیاری پیاری خوشبو والے پھول کھلے ہیں

اور رنگ برنگی تتلیاں ، لال بیگ، مدومکھیاں،ا وڑ رہی ہیں
پرندے چہچہا رہے ہیں
اوہ ! یہ لال بیگ کتنی خوبصورت ہے یہ
میں اسے ہمشہ کے لیے اپنے ساتھ رکھنا چاہتا ہوں
میں نے اپنے بھا ئی کے ساتھ مل کر اسے پکڑ لیا
ہم نے اسے کمرے میں لا کر ایک بوتل میں بند کر دیا
اور وہ بوتل ایک میز پر رکھ دی
اور اس بوتل میں تھوڑی سی گھاس اور پھول بھی رکھ دیے
دوپہر تک وہ لال بیگ بوتل کے اندر چھلانگیں مارتی رہی
وہ باربار اوپر چڑھتی  اور پھر نیچے گر جا تی
ہم اسے دیکھ کربہت خوش تھے
مگر شام کو وہ لال بیگ آرام سے بیٹھ گئی
 اب وو بار بار اوپر بھی نہیں چڑھ رہی تھی
وہ تھوڑی اداس اور تھکی ہوئی لگ رہی تھی
 ایسا لگتا تھا
وہ اب ھمارے ساتھ خوش نہی ہے
اور پھر ہم نے غورکیا اس نے صبح سے
کچھ بھی نہیں کھایا تھا
ہم اپنی امی جی سے اس کےلیےکھا نا لینےگیے
تب ہماری امی نے بتایا
وہاں اس کا گھراوردوست
ہیں وہ سب اس کو یاد آ رہے ہوں گے
جس طرح آپ کو کوئی پکڑکر کہیں بند کر دے
 تو آپ کو اچھا نہیں لگے گااسی طرح
وہ بھی بوتل میں بند ہو کے
 اچھا محسوس نہیں کر رہی ہو گی
 اس لیے ہم نے بوتل اٹھائی
 اور پھر پودوں میں اسکو چھوڑ دیا
ھمارے دیکھتے دیکھتے
 وہ اڑتی ہوئی پودوں میں کہیں گم ہو گئی
رات کو میں نے خواب دیکھا
کہ میں اور میرا بھائی ایک خوبصورت باغ میں اڑ
رہے ہیں
اور وہاں ہماری پیاری لال بیگ
 بھی بہت خوبصورت نغمےگا رہی ہیں
اور ھمارے ساتھ بہت خوش ہے.

مصنف :  ادیبہ انور  



Comments

Popular posts from this blog

حضرت سليمان عليه سلام کی کہانی Urdu Islami Kahania.

 حضرت سلیمان الہ  سلا م کی کہانی  حضرت سلیمانؑ ایک اللہ کے ایک طاقت ور, عقلمند اور بہت زیادہ علم والے نبی تھے. ان کے باباحضرت دائودؑ بھی بھی اللہ کے نبی اور بادشاہ تھے. اور وہ جانوروں کی بولی بھی سمجھتے تھے. حضرت سلیمانؑ نے بھی جانوروں کی بولیاں سیکھی ہوئی تھیں. انہوں نے اللہ سے دعا کی کہ اے اللہ مجھے ایسی حکومت عطا فرما. جو پہلے کسی کو نا دی ہو اور نا میرے بعد کسی کو ملے. اللہ نے ان کی دعا قبول کی. اور ان کو ہوائوں , جنوں اور تمام مخلوقات کا بادشاہ بنا دیا. اب جن ان کے پاس ہر وقت حاضر رہتے اور ان کی ہر بات مانتے. جب وہ کسی کام کا حکم دیتے تو جن کہتے "جو حکم میرے آقا" حضرت سلیمانؑ ان کو حکم دیتے, تو وہ زمین کے اندر سے ان کے لیے لوہا نکال کر لاتے اور اس سے اونچی اونچی عمارتیں بناتے.  ہوائیں  ہوائی جہاز سے بھی تیز چلتیں اور  ان کو  اڑا کر لے جاتیں. پرندے اور جانور ان سے باتیں کرتےتھے حضرت سلیمانؑ اور چونٹی! ایک دفعہ حضرت سلیمانؑ اپنی فوج کے ساتھ گھوڑوں پر بیٹھ کر کہیں جا رہے تھے. راستے میں ایک جگہ چونٹیوں کی بستی تھی.وہاں بہت ...

حضرت آدم علیہی سلا م کی کہانی Story of Adam A.S. Urdu Islami Kahanian

حضرت آدم علیہی سلا م  کی کہانی  پیارے بچو! آپ کو پتا ہے کہ سب سے پہلے انسان حضرت آدم علیہ سلام تھے. وہ جنت میں رہتے تھے. ان سے پہلےاللہ نے روشنی سے فرشتوں کو پیدا کیا. پھر آگ سے جن پیدا کیے. لیکن حضرت آدمؑ کو اللہ نے مٹی سے پیدا کیا تھا. اور پھر ان سے حضرت حواؑ کو پیدا کیا. فرشتے اور جن ہر وقت اللہ کی عبادت کرتے رہتے تھے اور اللہ کا ہر حکم مانتے تھے.سب سے زیادہ عبادت ابلیس جن کرتا تھا. ابلیس جن کو اللہ نے فرشتوں کےساتھ جنت میں رکھا تھا اور اس کی عزت بھی کی جاتی تھی. جس سے وہ بہت مغرور ہو گیا تھا. اللہ تعالٰی نےحضرت آدمؑ کو سب چیزوں کے نام سکھا دیۓتھے. پھر فرشتوں اور جنوں کو کہا کہ آدمؑ کو سجدہ کریں. سب نے سجدہ کیا. لیکن  ابلیس نے نہیں کیا. اللہ اس سے ناراض ہو گیا. اور اس کو جنت سے نکال دیا. اور کہا کہ تم نا فر مان, شیطان ہو. شیطان اس طرح انسان کا دشمن بن گیا  اور اللہ سے کہا کہ میں انسانوں سےگندے کام کرواں گا. حضرت آدمؑ اور حواؑ جنت میں رہنے لگے اللہ نے ان سے کہا کہ جو   مرضی کھائو پیو لیکن ایک پھل نہیں کھانا اور شیطان کا کہنا نا ماننا وہ ...
آج بلال  بہت خوش تھا ، کیوں کہ آج  اسکی وہ ہاتھ سے بنائی ہوئی  کتاب مکمل ہو چکی تھی جس پر اس نے  سڑک سے متعلق  نشانات اوراشارے بنائے تھے  اور ساتھ ان کی استمال کی بھی نشاندھی کی تھی. وہ کافی عرصے سے اس پر کام کر رہا تھا  اور اس نے اس پر محنت بھی بہت کی تھی وہ اسکول سے آ کر اپنا پڑھائیکا کام ختم کرتا اور اس کتاب کی تیاری میں لگ جاتامحتلف اخبار اور روڈ سیفٹی کی کتابوں سے اس نے سارےنشانات اور اشارے سیکھے اور پھر رنگوں کی مدد سے بلکل ویسے ہی نشان اور اشارے بنائے اور اس کے ساتھ ہی اس کو بہت ساری معلومات بھی مل چکی تھی   اس کی امی جی نے اس سسلے میں کافی مدد کی  یہ اس کی سب سے پسندیدہ کتاب تھی  اور وہ خوشی  خوشی سب کو دکھا بھی رہا تھا .  بابا، دادا ابو، بارے بھائی سب نے اسکی بہت تعریف بھی کی تھی. اب وہ چاہتا تھا بس جلدی سے صبح ہو جائے  اور وہ یہ کتاب اسکول لے کے جا سکے تا کہ وہ استاد اور بچوں کو بھی  دیکھا   سکے اس خوشی میں اس کو نیند بھی نہیں آ رہی تھی امی اس کی اس خوشی کو دیکھہ رہیں تھیں ل...