Skip to main content

اردو اسلامی کہانیاں فانٹو ایک ہاتھی.... Free Urdu Islami Story for children. Fanto a story to give awarness about water wasting.


لیکن ا
جنگل میں اس کا سب سے اچھا دوست پانی تھا. وہاں جنگل میں اس کے گھر کے قریب ایک  تالاب تھا. جو ٹھنڈے میٹھے پانی سےبھرا ہوا تھا
وہ اس پانی کے ساتھ بہت سارا کھیلتا. اس کو پانی میں تیرنا , چھلانگیں لگانا بہت اچھا لگتا تھا
وہ پانی اپنی سونڈ میں بھرتا اور کبھی اپنے اوپر چھڑکتا اور کبھی اپنے دوستوں پر
اس کے دوست بھی اپنی اپنی سونڈ میں پانی بھر کر ایک دوسرے پر پھینکتے رہتے
اس طرح وہ بہت سارا پانی ضائع کر دیتے.لیکن انہوں نے کھبی اس بات پر دھیان نا دیا کہ وہ کتنا پانی ضائع کر رہے ھیں
کافی عرصہ سے جنگل میں بارش بھی نہیں ہوئی تھی.گرمی بہت شدید تھی.اب تو وہ اور بھی زیادہ وقت پانی میں گزارنے لگے تھے.
تالاب کا پانی آہستہ آہستہ کم ہونے لگا. اس کے ماں باپ  کو سمجھاتے کی ان کو اپنے سب سےاچھے دوست کو یوں ضائع نہیں کرنا چاہئے
لیکن وہ پانی سے کھیلنے کے بغیر نہیں رہ سکتے تھے. آخر ایک دن ایسا آیا کہ تالاب بالکل سوکھ گیا. اس  کا پانی بالکل ختم ہو گیا
سب والدین ہاتھی اس صورت حال سے بہت پریشان تھے. فانٹو بھی اپنے سب سے پیارے دوست کے بغیر خوش نہیں تھا.لیکن اس کو یہ معلوم نہیں تھا کہ پانی کے بغیر زندگی کتنی مشکل ہونے والی ہے.
وہ اپنے دوستوں کے ساتھ دوسرے کھیل کھیلنے میں مصروف ہو گیا.وہ سب اب بھی ادھر ادھر بھاگ رہے تھے اور شور مچا رہے تھے.
 دوپہر بہت گرم ہو گئی وہ کھیل کھیل کر تھک چکے تھے. اس کو پیاس بھی بہت لگی ہوئی تھی
وہ پیٹ بھر کر پانی پینا چاہتا تھا. لیکن وہاں تو ایک گھونٹ بھی پینے کےلئے نا تھا
اس نے اداس ہو کر سر جھٹکا اور کیلے کھانے چلا گیا
اس نے کیلے کھاتے کھاتے سرگوشی کی کہ
کیلے میری پیاس تو نہیں بجھا سکتے
اب تو پانی کے بغیر اس سے کھیلا بھی نہیں جا راہا تھا.
شام ہو گئی تھی سب کا پیاس سے برا حال تھا.وہ سب صرف پانی کے بارےمیں ہی سوچ رہے تھے.
\ والدین ہاتھی بچوں کی پیاس اور پریشانی محسوس کر رہے تھے. لیکن وہ کچھ نہیں کر سکتے تھے. سوا اس کے کہ اللہ سے دعا کریں. 
وہ سب اللہ سے دعا کر رہے تھے کہ اے اللہ اپنی رحمت سے بارش برسا دے.اور ہم پر رحم فرما
 وہ سب بار بار آسمان کو بھی امید سے دیکھ رہے تھے کہ شاید ابھی کوئی بادل آسمان پر آئے گا اور بہت سارا پانی برسا جائے گا
رات ہو گئی تو فانٹو وہیں گھاس پر لیٹ گیا
رات کو اس کو سب چیزیں اور بھی زیادہ بے رنگ لگ رہی تھیں
. اس نے ایک دفعہ پھر اپنی ماں ہاتھی سے پانی مانگا. ماں بے بس تھی. 
اس نے فانٹو کو کہا کہ وہ بھی اللہ سے دعا کرے. پھر اللہ بہت سارا پانی برسائے گا. فانٹو دعا کرنے لگا
 لیکن پیاس سے اس کے ہونٹ بھی نہیں ہل رہے تھے. 
پھر اس نے چپکے سے دل ہی دل میں دعا کرنی شروع کر دی. دعا کرتے کرتے وہ سو گیا.
ابھی وہ تھوری دیر ہی سویا تھا کہ اس کو لگا اس پر پانی کے چھینٹے پڑے ہیں. اس نے سوچا کہ وہ خواب دیکھ رہا ہے
پھر اس نے ایک آواز سنی. کوئی کہہ رہا تھا کہ بارش آ گئی اس نے آنکھیں کھول دیں. اسی وقت اس کی ماں اس کے پاس جلدی سے آئی اور کہنے لگی.
فانٹو ! میرے بیٹے 
, دیکھو 
بارش ہو رہی ہے. اب تم بہت سارا پی سکو گے
 فانٹو جلدی سے اٹھ گیا. بارش بہت تیز ی سے اس کے چہرے اور سارے جسم پر برس رہی تھی. 
آہستہ آہستہ پانی نرمی اور بہت پیار سے اس کے جسم پر بہنے لگا. ایسا لگ رہا تھا کہ پانی بھی اس کے بغیر اداس ہو گیا تھا
فانٹو نے دل ہی دل میں خود سے وعدہ کیا کہ 
وہ آئندہ کبھی بھی اپنے پیارے دوست کو ضائع نہیں کرے گا










Comments

Popular posts from this blog

حضرت آدم علیہی سلا م کی کہانی Story of Adam A.S. Urdu Islami Kahanian

حضرت آدم علیہی سلا م  کی کہانی  پیارے بچو! آپ کو پتا ہے کہ سب سے پہلے انسان حضرت آدم علیہ سلام تھے. وہ جنت میں رہتے تھے. ان سے پہلےاللہ نے روشنی سے فرشتوں کو پیدا کیا. پھر آگ سے جن پیدا کیے. لیکن حضرت آدمؑ کو اللہ نے مٹی سے پیدا کیا تھا. اور پھر ان سے حضرت حواؑ کو پیدا کیا. فرشتے اور جن ہر وقت اللہ کی عبادت کرتے رہتے تھے اور اللہ کا ہر حکم مانتے تھے.سب سے زیادہ عبادت ابلیس جن کرتا تھا. ابلیس جن کو اللہ نے فرشتوں کےساتھ جنت میں رکھا تھا اور اس کی عزت بھی کی جاتی تھی. جس سے وہ بہت مغرور ہو گیا تھا. اللہ تعالٰی نےحضرت آدمؑ کو سب چیزوں کے نام سکھا دیۓتھے. پھر فرشتوں اور جنوں کو کہا کہ آدمؑ کو سجدہ کریں. سب نے سجدہ کیا. لیکن  ابلیس نے نہیں کیا. اللہ اس سے ناراض ہو گیا. اور اس کو جنت سے نکال دیا. اور کہا کہ تم نا فر مان, شیطان ہو. شیطان اس طرح انسان کا دشمن بن گیا  اور اللہ سے کہا کہ میں انسانوں سےگندے کام کرواں گا. حضرت آدمؑ اور حواؑ جنت میں رہنے لگے اللہ نے ان سے کہا کہ جو   مرضی کھائو پیو لیکن ایک پھل نہیں کھانا اور شیطان کا کہنا نا ماننا وہ ...
آج بلال  بہت خوش تھا ، کیوں کہ آج  اسکی وہ ہاتھ سے بنائی ہوئی  کتاب مکمل ہو چکی تھی جس پر اس نے  سڑک سے متعلق  نشانات اوراشارے بنائے تھے  اور ساتھ ان کی استمال کی بھی نشاندھی کی تھی. وہ کافی عرصے سے اس پر کام کر رہا تھا  اور اس نے اس پر محنت بھی بہت کی تھی وہ اسکول سے آ کر اپنا پڑھائیکا کام ختم کرتا اور اس کتاب کی تیاری میں لگ جاتامحتلف اخبار اور روڈ سیفٹی کی کتابوں سے اس نے سارےنشانات اور اشارے سیکھے اور پھر رنگوں کی مدد سے بلکل ویسے ہی نشان اور اشارے بنائے اور اس کے ساتھ ہی اس کو بہت ساری معلومات بھی مل چکی تھی   اس کی امی جی نے اس سسلے میں کافی مدد کی  یہ اس کی سب سے پسندیدہ کتاب تھی  اور وہ خوشی  خوشی سب کو دکھا بھی رہا تھا .  بابا، دادا ابو، بارے بھائی سب نے اسکی بہت تعریف بھی کی تھی. اب وہ چاہتا تھا بس جلدی سے صبح ہو جائے  اور وہ یہ کتاب اسکول لے کے جا سکے تا کہ وہ استاد اور بچوں کو بھی  دیکھا   سکے اس خوشی میں اس کو نیند بھی نہیں آ رہی تھی امی اس کی اس خوشی کو دیکھہ رہیں تھیں ل...